سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2133
Sunan Ibn Majah 2133
کتاب #12: کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
19: بَابُ : مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ نَذْرٌ
باب: جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ نذر ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ، وَعَلَيْهَا نَذْرُ صِيَامٍ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَصُمْ عَنْهَا الْوَلِيُّ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور اس نے کہا : میری ماں کا انتقال ہو گیا ، اور ان کے ذمہ روزوں کی نذر تھی ، اور وہ اس کی ادائیگی سے پہلے وفات پا گئیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کا ولی ان کی جانب سے روزے رکھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2133]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ میت کی طرف سے نذر کا روزہ ہو یا نماز اس کا ولی رکھ سکتا ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک عورت کو جس کی ماں نے قبا میں نماز پڑھنے کی نذر مانی تھی اور وہ مر گئی تھی، حکم دیا کہ تم اس کی طرف سے پڑھ لو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ابن لھيعة ضعيف مدلس ¤ وحديث ”من مات وعليه صيام صام عنه وليه“ (البخاري:1952،مسلم: 1147) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 455
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2554) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 2077)