سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2129
Sunan Ibn Majah 2129
کتاب #12: کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
18: بَابُ : الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ
باب: نذر پوری کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: " نَذَرْتُ نَذْرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا أَسْلَمْتُ، فَأَمَرَنِي أَنْ أُوفِيَ بِنَذْرِي".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی ، پھر اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی نذر پوری کرنے کا حکم دیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2129]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کافر یا مشرک حالت شرک و کفر میں کسی نیک کام کی نذر مانے جیسے اعتکاف یا صدقہ وغیرہ اور پھر اس کے بعد اسلام لے آئے تو اس نذر کا پورا کرنا واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الاعتکاف 5 (2032)، 15 (2042)، 16 (2043)، صحیح مسلم/الأیمان 6 (1656)، سنن ابی داود/الصوم80 (2474)، الأیمان 32 (3325)، سنن الترمذی/الأیمان 11 (1539)، سنن النسائی/الأیمان 35 (3851)، (تحفة الأشراف: 10550)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/37، 2/20، 82، 153)، سنن الدارمی/النذور 1 (2378) (صحیح)