سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2123
Sunan Ibn Majah 2123
کتاب #12: کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
15: بَابُ : النَّهْيِ عَنِ النَّذْرِ
باب: نذر سے ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ النَّذْرَ لَا يَأْتِي ابْنَ آدَمَ بِشَيْءٍ إِلَّا مَا قُدِّرَ لَهُ وَلَكِنْ يَغْلِبُهُ الْقَدَرُ مَا قُدِّرَ لَهُ، فَيُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ فَيُيَسَّرُ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ يُيَسَّرُ عَلَيْهِ مِنْ قَبْلِ ذَلِكَ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ: أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نذر سے آدمی کو کچھ نہیں ملتا مگر وہ جو اس کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے ، لیکن آدمی کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ نذر پر غالب آ جاتا ہے ، تو اس نذر سے بخیل کا مال نکالا جاتا ہے ، اور اس پہ وہ بات آسان کر دی جاتی ہے ، جو پہلے آسان نہ تھی ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” تو مال خرچ کر ، میں تجھ پر خرچ کروں گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2123]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13670)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان 26 (6692)، صحیح مسلم/النذر 2 (1640)، سنن ابی داود/الأیمان 21 (3288)، سنن الترمذی/الأیمان 10 (1538)، سنن النسائی/الأیمان 25 (3836)، مسند احمد (2/235، 242، 301، 314، 412، 463) (صحیح)