سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2109
Sunan Ibn Majah 2109
کتاب #12: کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
7: بَابُ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا
باب: جس نے کسی بات پر قسم کھائی پھر اس کے خلاف کرنا بہتر سمجھا تو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْجُشَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي ابْنُ عَمِّي، فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ وَلَا أَصِلَهُ، قَالَ: " كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ".
مالک جشمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا چچا زاد بھائی میرے پاس آتا ہے ، اور میں قسم کھا لیتا ہوں کہ اس کو کچھ نہ دوں گا ، اور نہ ہی اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2109]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو، اور یہ قسم کے خلاف بہتر کام ہے لہذا قسم کو توڑ دو، اور اس کا کفارہ ادا کرو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الأیمان والنذور 15 (3819)، (تحفة الأشراف: 11204)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/136، 137) (صحیح)