سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2093
Sunan Ibn Majah 2093
کتاب #12: کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
1: بَابُ : يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَ يَحْلِفُ بِهَا
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم اور حلف کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم یوں ہوتی تھی : «لا وأستغفر الله» ” ایسا نہیں ہے ، اور میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2093]
💡 وضاحت:
۱؎: لغو وہ قسم ہے جو آدمی کی زبان پر بے قصد و ارادہ جاری ہو جائے، اس سے کوئی کفارہ لازم نہیں آتا، یہ قسمیں آپ کی اسی قبیل سے ہوتیں مگر اس سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استغفار کیا تاکہ امت کے لوگ اس سے بھی پرہیز کریں، صحیح بخاری میں ہے کہ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں قسم کھاتے تھے: «لا ومقلب القلوب» اور صحیحین میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «وأيم الله إن كان لخليقاً للإمارة» یعنی، اللہ کی قسم! زید بن حارثہ امیر ہونے کے لائق تھا، اور جبریل علیہ السلام نے اللہ سے کہا: رب تیری عزت کی قسم، جو کوئی اس کو سن پائے گا، وہ جنت میں جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3265) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 454
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأیمان والنذور 12 (3265)، (تحفة الأشراف: 14802)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/288) (ضعیف) (سند میں محمد بن ہلال اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: 3423)