سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2076
Sunan Ibn Majah 2076
کتاب #11: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
29: بَابُ : خِيَارِ الأَمَةِ إِذَا أُعْتِقَتْ
باب: آزاد ہو جانے کے بعد لونڈی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہے یا نہ رہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: مَضَى فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ خُيِّرَتْ حِينَ أُعْتِقَتْ، وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا وَكَانُوا يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا، فَتُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ: " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ، وَقَالَ: الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ میں تین سنتیں سامنے آئیں ایک تو یہ کہ جب وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اختیار دیا گیا ، اور ان کے شوہر غلام تھے ، دوسرے یہ کہ لوگ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ دیا کرتے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کر دیتیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” وہ اس کے لیے صدقہ ہے ، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے “ ، تیسرے یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کے سلسلہ میں فرمایا : ” حق ولاء ( غلام یا لونڈی کی میراث ) اس کا ہے جو آزاد کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2076]
💡 وضاحت:
۱؎: جب بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکوں نے ولاء (حق وراثت) لینا چاہا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو خرید کر آزاد کر دو، ولاء (حق وراثت) اسی کو ملے گا جو آزاد کرے“۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17432)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق 10 (2536)، الأطعمة 31 (5430)، الفرائض 20 (6760)، 22 (6754)، 23 (6759)، سنن ابی داود/الفرائض 12 (2916)، سنن الترمذی/البیوع 33 (2126)، الولاء 1 (2125)، سنن النسائی/الطلاق 30 (3479)، موطا امام مالک/الطلاق10 (25)، مسند احمد (6/42، 170، 180، 186، 209)، سنن الدارمی/الطلاق 15 (2336) (صحیح)