📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: طلاق کے احکام و مسائل (كتاب الطلاق) 🏷️ باب: باب: بتہ یعنی بائن طلاق کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2051 Sunan Ibn Majah 2051
کتاب #11: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
19: بَابُ : طَلاَقِ الْبَتَّةِ
باب: بتہ یعنی بائن طلاق کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ؟، فَقَالَ: " مَا أَرَدْتَ بِهَا؟"، قَالَ: وَاحِدَةً، قَالَ: " آللَّهِ مَا أَرَدْتَ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةً، قَالَ: آللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا وَاحِدَةً"، قَالَ: فَرَدَّهَا عَلَيْهِ، قَالَ مُحَمَّد بْن مَاجَةَ: سَمِعْت أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيَّ يَقُولُ: مَا أَشْرَفَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ ابْن مَاجَةَ: أَبُو عُبَيْدٍ تَرَكَهُ نَاجِيَةُ وَأَحْمَدُ جَبُنَ عَنْهُ.
رکانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ ( قطعی طلاق ) دے دی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا : ” تم نے اس سے کیا مراد لی ہے “ ؟ انہوں نے کہا : ایک ہی مراد لی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” قسم اللہ کی کیا تم نے اس سے ایک ہی مراد لی ہے “ ؟ ، انہوں نے کہا : قسم اللہ کی میں نے اس سے صرف ایک ہی مراد لی ہے ، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی ۱؎ ۔ محمد بن ماجہ کہتے ہیں : میں نے محمد بن حسن بن علی طنافسی کو کہتے سنا : یہ حدیث کتنی عمدہ ہے ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں : ابوعبیدہ نے یہ حدیث ایک گوشے میں ڈال دی ہے ، اور احمد اسے روایت کرنے کی ہمت نہیں کر سکے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2051]
💡 وضاحت:
۱؎: «بتہ» : تین طلاق کو «بتہ» کہتے ہیں، کیونکہ «بت» کے معنی ہیں قطع کرنا، اور تین طلاقوں سے عورت شوہر سے بالکل الگ ہو جاتی ہے، پھر اس سے رجعت نہیں ہو سکتی، اور عدت گزر جانے کے بعد ایک طلاق بھی «بتہ» یعنی بائن ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف / د ¤ سنن أبي داود (2208) ترمذي (1177) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطلاق 14 (2206، 2207، 2208)، سنن الترمذی/الطلاق 2 (1177)، (تحفة الأشراف: 3613)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطلاق 8 (2318) (ضعیف) (اس کے تین رواة زبیری سعید، عبداللہ بن علی، اور علی بن یزید ضعیف ہیں، دیکھئے: إرواء الغلیل: 2063)
سنن ابن ماجه • حدیث #2051
2049 2050 2051 2052 2053
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ