سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2039
Sunan Ibn Majah 2039
کتاب #11: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
13: بَابُ : مَنْ طَلَّقَ أَوْ نَكَحَ أَوْ رَاجَعَ لاَعِبًا
باب: ہنسی مذاق میں طلاق دینے یا نکاح کرنے یا رجوع کرنے کے احکام کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَرْدَكَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین کام ہیں جو سنجیدگی سے کرنا بھی حقیقت ہے ، اور مذاق کے طور پر کرنا بھی حقیقت ہے ، ایک نکاح ، دوسرے طلاق ، تیسرے ( طلاق سے ) رجعت “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2039]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ہنسی مذاق اور ٹھٹھے کے طور پر اور اس کے مقابل جِد ہے یعنی درحقیقت ایک کام کا کرنا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطلاق 9 (2194)، سنن الترمذی/الطلاق 9 (1184)، (تحفة الأشراف: 14854) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حسن کے درجہ کو ہے، عبد الرحمن بن حبیب میں ضعف ہے)