سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2028
Sunan Ibn Majah 2028
کتاب #11: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
7: بَابُ : الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتْ حَلَّتْ لِلأَزْوَاجِ
باب: حاملہ عورت کا شوہر مر جائے تو اس کی عدت بچہ جننے کے ساتھ ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد اس سے شادی جائز ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، وَعَمْرِو بْنِ عُتْبَةَ ، أنهما كتبا إلى سبيعة بنت الحارث يسألانها عَنْ أَمْرِهَا، فَكَتَبَتْ إِلَيْهِمَا إِنَّهَا وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ، فَتَهَيَّأَتْ تَطْلُبُ الْخَيْرَ، فَمَرَّ بِهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، فَقَالَ: قَدْ أَسْرَعْتِ اعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: وَفِيمَ ذَاكَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " إِنْ وَجَدْتِ زَوْجًا صَالِحًا، فَتَزَوَّجِي".
مسروق اور عمرو بن عتبہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو خط لکھا ، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ ان کا کیا معاملہ تھا ؟ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے ان کو جواب لکھا کہ ان کے شوہر کی وفات کے پچیس دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا ، پھر وہ خیر یعنی شوہر کی تلاش میں متحرک ہوئیں ، تو ان کے پاس ابوسنابل بن بعکک گزرے تو انہوں نے کہا کہ تم نے جلدی کر دی ، دونوں میعادوں میں سے آخری میعاد چار ماہ دس دن عدت گزارو ، یہ سن کر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے لیے دعائے مغفرت کر دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کس لیے “ ؟ میں نے صورت حال بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر کوئی نیک اور دیندار شوہر ملے تو شادی کر لو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2028]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي10تعلیقاً (3991)، الطلاق 39 (5319)، صحیح مسلم/الطلاق 8 (1484)، سنن ابی داود/الطلاق 47 (2306)، سنن النسائی/الطلاق 56 (3548)، (تحفة الأشراف: 15890)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/432) (صحیح)