سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1837
Sunan Ibn Majah 1837
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
25: بَابُ : كَرَاهِيَةِ الْمَسْأَلَةِ
باب: سوال کرنا اور مانگنا مکروہ اور ناپسندیدہ کام ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَتَقَبَّلُ لِي بِوَاحِدَةٍ، وَأَتَقَبَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ"، قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: " لَا تَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا"، قَالَ: فَكَانَ ثَوْبَانُ يَقَعُ سَوْطُهُ وَهُوَ رَاكِبٌ، فَلَا يَقُولُ لِأَحَدٍ نَاوِلْنِيهِ، حَتَّى يَنْزِلَ فَيَأْخُذَهُ.
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کون میری ایک بات قبول کرتا ہے ؟ اور میں اس کے لیے جنت کا ذمہ لیتا ہوں “ ، میں نے عرض کیا : میں قبول کرتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں سے کوئی چیز مت مانگو “ ، چنانچہ ثوبان رضی اللہ عنہ جب سواری پر ہوتے اور ان کا کوڑا نیچے گر جاتا تو کسی سے یوں نہ کہتے کہ میرا کوڑا اٹھا دو ، بلکہ خود اتر کر اٹھاتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1837]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ایمان و توکل علی اللہ کا بڑا اعلیٰ درجہ ہے حالانکہ اس قسم کا سوال مباح اور جائز ہے، مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان بڑی تھی انہوں نے مخلوق سے مطلقاً سوال ہی چھوڑ دیا، صرف خالق سے سوال کرنے ہی کو بہتر سمجھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ:
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الزکاة 86 (2591)، (تحفة الأشراف: 2098)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة 27 (1643)، مسند احمد (5/275، 276، 279) (صحیح)