سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1810
Sunan Ibn Majah 1810
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
14: بَابُ : مَا جَاءَ فِي عُمَّالِ الصَّدَقَةِ
باب: زکاۃ کی وصولی کرنے والوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ مُوسَى بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُبَابِ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ تَذَاكَرَ هُوَ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمًا الصَّدَقَةَ، فَقَالَ عُمَرُ : " أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَذْكُرُ غُلُولَ الصَّدَقَةِ، أَنَّهُ مَنْ غَلَّ مِنْهَا بَعِيرًا، أَوْ شَاةً، أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ؟"، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ: بَلَى.
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن زکاۃ کے بارے میں آپس میں بات کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ زکاۃ میں خیانت کا ذکر کر رہے تھے یہ نہیں سنا : ” جس نے زکاۃ کے مال سے ایک اونٹ یا ایک بکری چرا لی تو وہ قیامت کے دن اسے اٹھائے ہوئے لے کر آئے گا “ ؟ عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا : کیوں نہیں ( ہاں ، میں نے سنا ہے ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1810]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10481، ومصباح الزجاجة: 646)، وقد أخرجہ: مسند احمد3/498) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2354)