سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1806
Sunan Ibn Majah 1806
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
13: بَابُ : صَدَقَةِ الْغَنَمِ
باب: بکریوں کی زکاۃ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مِيَاهِهِمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمانوں کی زکاۃ ان کے پانی پلانے کی جگہوں میں لی جائے گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1806]
💡 وضاحت:
۱؎: ہر ایک اپنے جانوروں کو اپنی بستی میں پانی پلاتا ہے تو مطلب یہ ہے کہ زکاۃ وصول کرنے والا ان کی بستیوں میں جا کر زکاۃ وصول کرے گا یہ نہ ہو گا کہ وہ اپنی بستیوں کے باہر زکاۃ دینے کے لئے بلائے جائیں، یہ بھی رعایا پر ایک شفقت ہے، پانی کے گھاٹ پر جانوروں کے زکاۃ وصول کرنے کا محصل کو فائدہ یہ بھی ہو گا کہ وہاں تمام ریوڑ اور ہر ریوڑ کے تمام جانور پانی پینے کے لیے جمع ہوتے ہیں، گنتی میں آسانی رہتی ہے، جب کہ چراگاہوں میں جانور بکھرے ہوئے ہوتے ہیں، اور وہاں ان کا شمار کرنا مشکل ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6734، ومصباح الزجاجة: 645)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/184) (حسن صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1779)