سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1802
Sunan Ibn Majah 1802
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
11: بَابُ : مَا يَأْخُذُ الْمُصَدِّقُ مِنَ الإِبِلِ
باب: محصل زکاۃ والے سے کس قسم کا اونٹ لے؟
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَرْجِعُ الْمُصَدِّقُ إِلَّا عَنْ رِضًا".
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عامل زکاۃ لوگوں کو خوش رکھ کر ہی واپس جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1802]
💡 وضاحت:
۱؎: سبحان اللہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایمان داری اور خوف الہی کو دیکھئے کہ ایک شخص نے خوشی سے اپنا عمدہ مال زکاۃ میں دیا تب بھی انہوں نے قبول نہ کیا، دو وجہ سے، ایک تو یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمدہ مال زکاۃ میں لینے سے منع کر دیا تھا، دوسرے اس وجہ سے کہ شاید دینے والے کے دل کو ناگوار ہو، گو وہ ظاہر میں خوشی سے دیتا ہے، اس ذرا سی حق تلفی اور ناراضی کو بھی اتنا بڑا گناہ سمجھا کہ یوں کہا: زمین مجھے کیسے اٹھائے گی اور آسمان میرے اوپر گر پڑے گا اگر میں ایسا کام کروں، جب اسلام میں ایسے متقی اور ایمان دار اللہ تعالی سے ڈرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے تھے تو اسلام کو اس قدر جلد ایسی ترقی ہوئی کہ اس کا پیغام دنیا کے چپہ چپہ میں پہنچ گیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ جابر الجعفي ضعيف رافضي ¤ و تابعه مجالد: ضعيف (11) عند الطبراني (2362) و روي مسلم (989) عن رسول اللّٰه ﷺ قال: ((أرضوا مصدقيكم)) وھو يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 444 ¤ -
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة 55 (989)، سنن الترمذی/الزکاة 20 (647، 648)، سنن النسائی/الزکاة 14 (2462)، (تحفة الأشراف: 3215)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الزکاة 5 (1589)، مسند احمد (4/362)، سنن الدارمی/الزکاة 32 (1712) (صحیح)