سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1792
Sunan Ibn Majah 1792
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
5: بَابُ : مَنِ اسْتَفَادَ مَالاً
باب: جو شخص مال حاصل کرے اس کی زکاۃ کا بیان۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَارِثَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا زَكَاةَ فِي مَالٍ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” کسی بھی مال پر اس وقت تک زکاۃ نہیں ہے جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1792]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر کسی کے پاس شروع سال میں دس دینار تھے، لیکن بیچ سال میں دس دینار اور ملے تو اس پر زکاۃ واجب نہ ہو گی جب تک بیس دینار پر پورا سال نہ گزرے، شافعی کا یہی قول ہے، اور ابو حنیفہ نے کہا کہ بیچ سال میں جو مال حاصل ہو وہ پہلے مال سے مل جائے گا اور سال پورا ہو نے پر اس میں زکاۃ واجب ہو گی، یہ اختلاف اس صورت میں ہے، جب دوسرا مال الگ سے ہوا ہو، اور پہلے مال کا نفع ہو تو بالاتفاق اس سے مل جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ حارثة بن محمد ھو ابن أبي الرجال: ضعيف ¤ و للحديث شواھد ضعيفة،انظر سنن أبي داود (1573) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 444
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17889، ومصباح الزجاجة: 641) (صحیح) (حارثہ بن محمد بن أبی الرجال ضعیف ہے، لیکن دوسرے طریق سے صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 813، الإرواء: 787)