سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1789
Sunan Ibn Majah 1789
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
3: بَابُ : مَا أُدِّيَ زَكَاتُهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ
باب: زکاۃ ادا کیا ہوا مال کنز (خزانہ) نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنْهَا سَمِعَتْهُ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيْسَ فِي الْمَالِ حَقٌّ سِوَى الزَّكَاةِ".
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” مال میں زکاۃ کے علاوہ کوئی حق نہیں ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1789]
💡 وضاحت:
۱؎: امام ترمذی نے فاطمہ بنت قیس سے اس کے خلاف روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک مال میں اور حق بھی ہیں، سوائے زکاۃ کے، تو یہ حدیث مضطرب ہوئی۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (659،660) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 443
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الزکاة 27 (659، 660)، (تحفة الأشراف: 18026)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الزکاة 13 (1677) (ضعیف منکر) (سند میں درج ابو حمزہ میمون ا الٔاعور ضعیف راوی ہے، اور شریک القاضی بھی ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4383)