سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1786
Sunan Ibn Majah 1786
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
2: بَابُ : مَا جَاءَ فِي مَنْعِ الزَّكَاةِ
باب: زکاۃ نہ دینے پر وارد وعید کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَأْتِي الْإِبِلُ الَّتِي لَمْ تُعْطِ الْحَقَّ مِنْهَا تَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَخْفَافِهَا، وَتَأْتِي الْبَقَرُ، وَالْغَنَمُ تَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَظْلَافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَيَأْتِي الْكَنْزُ شُجَاعًا أَقْرَعَ فَيَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُهُ فَيَفِرُّ، فَيَقُولُ: مَا لِي وَلَكَ، فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ، أَنَا كَنْزُكَ، فَيَتَقِيهِ بِيَدِهِ فَيَلْقَمُهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جن اونٹوں کی زکاۃ نہیں دی گئی وہ آئیں گے اور اپنے مالک کو اپنے پاؤں سے روندیں گے ، اور گائیں اور بکریاں آئیں گی وہ اپنے مالک کو اپنے کھروں سے روندیں گی اور اسے سینگوں سے ماریں گی ، اور اس کا خزانہ ایک گنجا سانپ بن کر آئے گا ، اور اپنے مالک سے قیامت کے دن ملے گا ، اس کا مالک اس سے دور بھاگے گا ، پھر وہ اس کے سامنے آئے گا تو وہ بھاگے گا ، اور کہے گا : آخر تو میرے پیچھے کیوں پڑا ہے ؟ وہ کہے گا : میں تیرا خزانہ ہوں ، میں تیرا خزانہ ہوں ، آخر مالک اپنے ہاتھ کے ذریعہ اس سے اپنا بچاؤ کرے گا لیکن وہ اس کا ہاتھ ڈس لے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1786]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ ہاتھ ہی سے زکاۃ نہیں دی گئی تو پہلے اسی عضو کو سزا دی جائے گی، خزانہ (کنز) سے مراد یہاں وہی مال ہے جس کی زکاۃ ادا نہیں کی گئی جیسے آگے آتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14041)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 3 (1402)، الجہاد 189 (3073)، تفسیر براء ة 6 (4659)، الحیل 3 (9658)، سنن النسائی/الزکاہ 6 (2450)، موطا امام مالک/الزکاة 10 (22)، مسند احمد (2/316، 379، 426) (صحیح)