سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1780
Sunan Ibn Majah 1780
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
66: بَابٌ في الْمُسْتَحَاضَةِ تَعْتَكِفُ
باب: استحاضہ والی عورت کا اعتکاف۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : " اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ، فَكَانَتْ تَرَى الْحُمْرَةَ، وَالصُّفْرَةَ، فَرُبَّمَا وَضَعَتْ تَحْتَهَا الطَّسْتَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا ، تو وہ سرخی اور زردی دیکھتی تھیں ، تو کبھی اپنے نیچے طشت رکھ لیتی تھیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1780]
💡 وضاحت:
۱؎: جب خون حیض والے مقررہ دنوں سے زیادہ ہو جائے تو وہ استحاضہ ہے، مستحاضہ کو صوم و صلاۃ سب ادا کرنا چاہئے جیسا کہ اوپر گزرا، اس کا اعتکاف کرنا بھی صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحیض 10 (309)، الاعتکاف 10 (2037)، سنن ابی داود/الصوم 81 (2476)، (تحفة الأشراف: 17399)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/131)، سنن الدارمی/الطہارة 93 (906) (صحیح)