📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: صیام کے احکام و مسائل (كتاب الصيام) 🏷️ باب: باب: لیلۃ القدر (شب قدر) کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1766 Sunan Ibn Majah 1766
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
56: بَابٌ في لَيْلَةِ الْقَدْرِ
باب: لیلۃ القدر (شب قدر) کا بیان۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے شب قدر خواب میں دکھائی گئی لیکن پھر مجھ سے بھلا دی گئی ، لہٰذا تم اسے رمضان کے آخری عشرہ ( دہے ) کی طاق راتوں میں ڈھونڈھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1766]
💡 وضاحت:
۱؎: شب قدر کے سلسلہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اکیسویں، تیئسویں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں اور رمضان کی آخری رات کے اقوال مروی ہیں، امام شافعی کہتے ہیں کہ میرے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سائل کو اس کے سوال کے مطابق جواب دیتے تھے، آپ سے کہا جاتا: ہم اسے فلاں رات میں تلاش کریں؟ آپ فرماتے: ہاں، فلاں رات میں تلاش کرو، امام شافعی فرماتے ہیں: میرے نزدیک سب سے قوی روایت اکیسویں رات کی ہے، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ قسم کھا کر کہتے تھے کہ یہ ستائیسویں رات ہے، ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ رمضان کے آخری عشرے میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ مخصوص رات دکھائی گئی تھی پھر وہ آپ سے بھلا دی گئی، اس میں مصلحت یہ تھی کہ لوگ اس رات کی تلاش میں زیادہ سے زیادہ عبادت اور ذکر الٰہی میں مشغول رہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: : صحیح البخاری/الأذان 41 (669)، 135 (813)، 191 (836)، لیلةالقدر 2 (2016)، 3 (2018)، الاعتکاف 1 (2026)، 9 (2036)، 13 (2040)، صحیح مسلم/الصوم 40 (1167)، سنن ابی داود/الصلاة 157 (894)، 166 (911)، سنن النسائی/السہو 98 (1357)، (تحفة الأشراف: 4419)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الاعتکاف 6 (9)، مسند احمد (3/7، 34، 60، 74، 94) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #1766
1764 1765 1766 1767 1768
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ