سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1750
Sunan Ibn Majah 1750
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
47: بَابُ : مَنْ دُعِيَ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ
باب: روزہ دار کو کھانے کی دعوت دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کسی کو کھانا کھانے کے لیے بلایا جائے ، اور وہ روزے سے ہو ، تو کہے کہ میں روزے سے ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1750]
💡 وضاحت:
۱؎: ”میں صوم سے ہوں“ کہنے کا حکم دعوت قبول نہ کرنے کی معذرت کے طور پر ہے اگرچہ نوافل کا چھپانا بہتر ہے لیکن یہاں اس کے ظاہر کرنے کا حکم اس لیے ہے کہ تاکہ داعی کے دل میں مدعو کے خلاف کوئی غلط فہمی یا کدورت راہ نہ پائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 28 (1150)، سنن ابی داود/الصوم 76 (2461)، سنن الترمذی/الصوم 64 (781)، (تحفة الأشراف: 13671)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 242، سنن الدارمی/الصیام 31 (1778) (صحیح)