سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1722
Sunan Ibn Majah 1722
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
36: بَابٌ في النَّهْيِ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالأَضْحَى
باب: عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى، أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَيَوْمُ الْأَضْحَى تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ".
ابوعبید ( سعد بن عبید الزہری ) کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز عید شروع کی اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک تو عید الفطر ، دوسرے عید الاضحی ، رہا عید الفطر کا دن تو وہ تمہارے روزے سے افطار کا دن ہے ، اور رہا عید الاضحی کا دن تو اس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1722]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصوم 66 (1990)، صحیح مسلم/الصوم 22 (1137)، سنن ابی داود/الصوم 48 (2416)، سنن الترمذی/الصوم 58 (771)، (تحفة الأشراف: 10330، 10662)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العیدین 2 (5)، مسند احمد (1/24، 34، 40) (صحیح)