سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1700
Sunan Ibn Majah 1700
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
26: بَابُ : مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّوْمِ مِنَ اللَّيْلِ وَالْخِيَارِ فِي الصَّوْمِ
باب: فرض روزے کی نیت رات میں ضروری ہونے اور نفلی روزے میں اختیار ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يَفْرِضْهُ مِنَ اللَّيْلِ".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کا روزی نہیں جو رات ہی میں اس کی نیت نہ کر لے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1700]
💡 وضاحت:
۱؎: روزہ دار کے لیے رات میں نیت کرنے کا یہ حکم فرض اور قضا و کفارہ کے روزے کے سلسلہ میں ہے، نفلی صیام کے لئے رات میں نیت ضروری نہیں جیسا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے جو نیچے آگے رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2454) ترمذي (730) نسائي (2333) ¤ الزھري مدلس وعنعن ¤ وأخرج النسائي (2338) بإسناد صحيح كالشمس عن حفصة قالت: ’’لاصيام لمن لم يجمع قبل الفجر“ موقوف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصوم 71 (2454)، سنن الترمذی/الصوم 33 (730)، سنن النسائی/الصیام 39 (2333،)، (تحفة الأشراف: 15802)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام2 (5)، مسند احمد (6/278)، سنن الدارمی/الصوم 10 (1740) (صحیح)