سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1697
Sunan Ibn Majah 1697
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
24: بَابُ : مَا جَاءَ فِي تَعْجِيلِ الإِفْطَارِ
باب: افطار کرنے میں جلدی کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْإِفْطَارَ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ، ہمیشہ خیر میں رہیں گے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1697]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سورج ڈوبنے کے بعد روزہ کھولنے میں دیر نہ کریں گے تو ہمیشہ خیر میں رہیں گے، یہ مطلب نہیں ہے کہ وقت سے پہلے ہی روزہ کھول دیں۔
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصوم 9 (1098)، (تحفة الأشراف: 4722)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 45 (1957)، سنن الترمذی/الصوم 13 (699)، موطا امام مالک/الصیام 3 (6)، سنن الدارمی/الصوم 11 (1741) (صحیح)