سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1688
Sunan Ibn Majah 1688
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
20: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ
باب: روزہ دار کا بیوی سے مباشرت (ساتھ سونے) کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " رُخِّصَ لِلْكَبِيرِ الصَّائِمِ فِي الْمُبَاشَرَةِ، وَكُرِهَ لِلشَّابِّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بوڑھے روزہ دار کو بیوی سے چمٹ کر سونے کی رخصت دی گئی ہے ، لیکن نوجوانوں کے لیے مکروہ قرار دی گئی ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1688]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں خطرہ ہے کہ کہیں وہ جماع نہ کر بیٹھیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5578، ومصباح الزجاجة: 611) (صحیح) (محمد بن خالد ضعیف ہے، اور عطاء بن سائب اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، خالد واسطی نے ان سے اختلاط کے بعد روایت کی، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 2065)