سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1677
Sunan Ibn Majah 1677
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
17: بَابُ : مَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ وَالْكُحْلِ لِلصَّائِمِ
باب: روزہ دار کے مسواک کرنے اور سرمہ لگانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل الْمُؤَدِّبُ ، عَنِ مُجَالِدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ خَيْرِ خِصَالِ الصَّائِمِ السِّوَاكُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزے دار کی اچھی عادتوں میں سے مسواک کرنا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1677]
💡 وضاحت:
۱؎: روزے دار کے لئے مسواک کرنا مکروہ نہیں ہے، کسی بھی وقت میں ہو، شروع دن میں یا اخیر دن میں، بلکہ سنت ہے، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، بعض لوگوں نے زوال کے بعد مسواک کرنا مکروہ سمجھا ہے اس وجہ سے کہ اس کے ذریعہ منہ کی بو ختم ہو جائے گی، جس کی فضیلت حدیث میں آئی ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ اس بو کا تعلق منہ سے نہیں، بلکہ معدہ سے ہے، جو معدہ کے خالی ہونے کی حالت میں پیدا ہوتی ہے اسی کو عربی میں «خلوف» کہتے ہیں جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ مجالد: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17630، ومصباح الزجاجة: 607) (ضعیف) (اس کی سند میں مجالد ضعیف ہیں)