سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1660
Sunan Ibn Majah 1660
کتاب #8: کتاب: صیام کے احکام و مسائل
9: بَابُ : مَا جَاءَ فِي شَهْرَيِ الْعِيدِ
باب: عید کے دونوں مہینوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ، وَالْأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عید الفطر وہ دن ہے جس میں تم لوگ روزہ توڑ دیتے ہو ، اور عید الاضحی وہ دن ہے جس میں تم لوگ قربانی کرتے ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1660]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان عید کریں تو ہر ایک کو اس میں شریک ہو جانا چاہئے، جماعت سے الگ رہ کر اپنی عید علیحدہ کرنا اور چاند کی تحقیق میں مبالغہ کرنا ضروری نہیں ہے، ہماری عید جماعت کی عید کے ساتھ پوری ہو جائے گی، اور جس نے جھوٹ بولا یا جھوٹی گواہی دی اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14428)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 5 (2324)، سنن الترمذی/الصوم 11 (697) (صحیح)