سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1595
Sunan Ibn Majah 1595
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
54: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ
باب: میت پر نوحہ خوانی سے اس کو عذاب ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنَّمَا كَانَتْ يَهُودِيَّةٌ مَاتَتْ، فَسَمِعَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكُونَ عَلَيْهَا، قَالَ: " فَإِنَّ أَهْلَهَا يَبْكُونَ عَلَيْهَا، وَإِنَّهَا تُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت کا انتقال ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس پر روتے ہوئے سنا ، تو فرمایا : ” اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں جب کہ اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1595]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16259)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 32 (1289)، صحیح مسلم/الجنائز9 (932)، سنن الترمذی/الجنائز 25 (1004)، سنن النسائی/الجنائز15 (1857)، موطا امام مالک/الجنائز12 (37)، مسند احمد (6/107، 255) (صحیح)