📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل (كتاب الجنائز) 🏷️ باب: باب: میت پر رونے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1589 Sunan Ibn Majah 1589
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
53: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: میت پر رونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمُ بَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ الْمُعَزِّي إِمَّا أَبُو بَكْرٍ، وَإِمَّا عُمَرُ: أَنْتَ أَحَقُّ مَنْ عَظَّمَ اللَّهُ حَقَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَدْمَعُ الْعَيْنُ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ، لَوْلَا أَنَّهُ وَعْدٌ صَادِقٌ وَمَوْعُودٌ جَامِعٌ، وَأَنَّ الْآخِرَ تَابِعٌ لِلْأَوَّلِ، لَوَجَدْنَا عَلَيْكَ يَا إِبْرَاهِيمُ أَفْضَلَ مِمَّا وَجَدْنَا، وَإِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ".
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کا انتقال ہو گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے ، آپ سے تعزیت کرنے والے نے ( وہ یا تو ابوبکر تھے یا عمر رضی اللہ عنہما ) کہا : آپ سب سے زیادہ اللہ کے حق کو بڑا جاننے والے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آنکھ روتی ہے ، دل غمگین ہوتا ہے ، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہو ، اور اگر قیامت کا وعدہ سچا نہ ہوتا ، اور اس وعدہ میں سب جمع ہونے والے نہ ہوتے ، اور بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کے پیچھے نہ ہوتا ، تو اے ابراہیم ! ہم اس رنج سے زیادہ تم پر رنج کرتے ، ہم تیری جدائی سے رنجیدہ ہیں ۱؎ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1589]
💡 وضاحت:
۱؎: ابراہیم ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ آنکھ سے آنسوں کا نکلنا اور غمزدہ ہونا صبر کے منافی نہیں بلکہ یہ رحم دلی کی نشانی ہے البتہ نوحہ اور شکوہ کرنا صبر کے منافی اور حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15772، ومصباح الزجاجة: 572) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں کلام ہے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1732)
سنن ابن ماجه • حدیث #1589
1587 1588 1589 1590 1591

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1587 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَ...
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے ، عمر رضی اللہ عنہ ن...
#1587 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَ...
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی معنی کی حدیث آئی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1587M]...
#1588 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْ...
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کا ایک لڑکا مرنے کے...
#1590 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَب...
حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا : آپ کا بھائی قتل کر دیا گیا ہے تو انہوں نے ...
#1591 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا ...
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( قبیلہ ) عبدالاشہل کی عور...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ