سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1586
Sunan Ibn Majah 1586
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
52: بَابُ : مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ
باب: (مصیبت کے وقت) منہ پیٹنا اور گریبان پھاڑنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ يَذْكُرُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، وأبى بردة ، قَالَا: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى ، أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ فَأَفَاقَ، فَقَالَ لَهَا: أَوَ مَا عَلِمْتِ أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُحَدِّثُهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ، وَسَلَقَ، وَخَرَقَ".
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری شدید ہو گئی ، تو ان کی بیوی ام عبداللہ چلّا چلّا کر رونے لگیں ، جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے بیوی سے کہا : کیا تم نہیں جانتی کہ میں اس شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری ہوئے ، اور وہ اپنی بیوی سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اس سے بری ہوں جو مصیبت کے وقت سر منڈائے ، روئے چلائے اور کپڑے پھاڑے ۱؎ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1586]
💡 وضاحت:
۱؎: جیسے جاہلوں کی عادت ہوتی ہے، بلکہ ہندوؤں کی رسم ہے کہ جب کوئی مر جاتا ہے تو اس کے غم میں سر بلکہ داڑھی مونچھ بھی منڈوا ڈالتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 44 (104)، سنن النسائی/الجنائز20 (1866)، (تحفة الأشراف: 9020، 9081)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز29 (3130)، مسند احمد (4/396، 404، 405، 411، 416) (صحیح)