سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1582
Sunan Ibn Majah 1582
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " النِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّ النَّائِحَةَ إِنْ لَمْ تَتُبْ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ، فَإِنَّهَا تُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهَا سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ، ثُمَّ يُعْلَى عَلَيْهَا بِدِرُوعٍ مِنْ لَهَبِ النَّارِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے ، اگر نوحہ کرنے والی عورت توبہ کرنے سے پہلے مر جائے ، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ تارکول کی قمیص پہنے ہو گی ، اور اس کو اوپر سے جہنم کی آگ کے شعلوں کی ایک قمیص پہنا دی جائے گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1582]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6247، ومصباح الزجاجة: 569) (صحیح) (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ’’عمر بن راشد“ ضعیف راوی ہے، اور اس کی حدیث یحییٰ بن ابی کثیر سے مضطرب ہے)