سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1573
Sunan Ibn Majah 1573
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
48: بَابُ : مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ
باب: کفار و مشرکین کی قبروں کی زیارت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَكَانَ وَكَانَ فَأَيْنَ هُوَ؟، قَالَ: " فِي النَّارِ"، قَالَ: فَكَأَنَّهُ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ أَبُوكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَيْثُمَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ كَافِرٍ، فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ"، قَالَ: فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدُ، وَقَالَ: لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَبًا، مَا مَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ، إِلَّا بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور کہا : اللہ کے رسول ! میرے والد صلہ رحمی کیا کرتے تھے ، اور اس اس طرح کے اچھے کام کیا کرتے تھے ، تو اب وہ کہاں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ جہنم میں ہیں “ اس بات سے گویا وہ رنجیدہ ہوا ، پھر اس نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ کے والد کہاں ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کسی مشرک کی قبر کے پاس سے گزرو ، تو اس کو جہنم کی خوشخبری دو “ اس کے بعد وہ اعرابی ( دیہاتی ) مسلمان ہو گیا ، اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر ایک ذمہ داری ڈال دی ہے ، اب کسی بھی کافر کی قبر سے گزرتا ہوں تو اسے جہنم کی بشارت دیتا ہوں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1573]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ الزهري عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 435
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6803، ومصباح الزجاجة: 564) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 18)