سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1568
Sunan Ibn Majah 1568
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
46: بَابُ : مَا جَاءَ فِي خَلْعِ النَّعْلَيْنِ فِي الْمَقَابِرِ
باب: قبرستان میں جوتا اتار کر چلنا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ، مَا تَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ أَصْبَحْتَ تُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَنْقِمُ عَلَى اللَّهِ شَيْئًا كُلُّ خَيْرٍ قَدْ آتَانِيهِ اللَّهُ، فَمَرَّ عَلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: " أَدْرَكَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرٌ"، ثُمَّ مَرَّ عَلَى مَقَابِرِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: " سَبَقَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا"، قَالَ: فَالْتَفَتَ فَرَأَى رَجُلًا يَمْشِي بَيْنَ الْمَقَابِرِ فِي نَعْلَيْهِ، فَقَالَ: " يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَلْقِهِمَا"، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، يَقُولُ: حَدِيثٌ جَيِّدٌ، وَرَجُلٌ ثِقَةٌ.
بشیر ابن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ نے فرمایا : ” اے ابن خصاصیہ ! تجھے اللہ سے کیا شکوہ ہے ( حالانکہ تجھے یہ مقام حاصل ہو گیا ہے کہ ) تو رسول اللہ کے ساتھ چل رہا ہے “ ؟ میں نے کہا ، اے اللہ کے رسول ! مجھے اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہیں ۔ مجھے اللہ نے ہر بھلائی عنایت فرمائی ہے ۔ ( اسی اثناء میں ) آپ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ” انہیں بہت بھلائی مل گئی “ ۔ پھر مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ” یہ بہت سی بھلائی سے محروم رہ گئے “ ۔ اچانک آپ کی نگاہ ایسے آدمی پر پڑی جو قبروں کے درمیان جوتوں سمیت چل رہا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے جوتوں والے ! انہیں اتار دے “ ۔ امام ابن ماجہ نے اپنے استاذ محمد بن بشار سے بیان کیا کہ ابن مہدی کہتے ہیں ، عبداللہ بن عثمان کہا کرتے تھے یہ حدیث عمدہ ہے اور اس کا راوی خالد بن سمیر ثقہ ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1568]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
t