سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1549
Sunan Ibn Majah 1549
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
37: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْجُلُوسِ فِي الْمَقَابِرِ
باب: قبرستان میں بیٹھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے ، جب قبر کے پاس پہنچے تو آپ بیٹھ گئے ، اور ہم بھی بیٹھ گئے ، گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1549]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی خاموش سر جھکا کر بیٹھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہمیشہ اسی طرح با ادب بیٹھتے تھے۔ اور قبرستان میں بھی باکل خاموش اور چپ چاپ بیٹھ جاتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1759) (صحیح)