سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1500
Sunan Ibn Majah 1500
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
23: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْجِنَازَةِ
باب: نماز جنازہ کی دعا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ الْفَضَالَةِ ، حَدَّثَنِي عِصْمَةُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَاغْسِلْهُ بِمَاءٍ وَثَلْجٍ وَبَرَدٍ، وَنَقِّهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ بِدَارِهِ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ"، قَالَ عَوْفٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي مُقَامِي ذَلِكَ أَتَمَنَّى أَنْ أَكُونَ مَكَانَ الرَّجُلِ.
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری شخص کی نماز جنازہ پڑھائی ، میں حاضر تھا ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا : «اللهم صل عليه واغفر له وارحمه وعافه واعف عنه واغسله بماء وثلج وبرد ونقه من الذنوب والخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس وأبدله بداره دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وقه فتنة القبر وعذاب النار» ” اے اللہ ! اس پر اپنی رحمت نازل فرما ، اسے بخش دے ، اس پر رحم کر ، اسے اپنی عافیت میں رکھ ، اسے معاف کر دے ، اور اس کے گناہوں کو پانی ، برف اور اولے سے دھو دے ، اور اسے غلطیوں اور گناہوں سے ایسے ہی پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے پاک کیا جاتا ہے ، اور اس کے اس گھر کو بہتر گھر سے ، اور اہل خانہ کو بہتر اہل خانہ سے بدل دے ، اور اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے بچا لے “ ۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت میں نے تمنا کی کاش اس میت کی جگہ میں ہوتا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1500]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10907)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز26 (963)، سنن الترمذی/الجنائز38 (1025)، سنن النسائی/الطہارة50 (62)، الجنائز 77 (1985)، مسند احمد (6/23، 28) (صحیح)