سنن أبي داود حدیث نمبر: 929
Sunan Abi Dawud 929
کتاب #--: ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
172: باب رَدِّ السَّلاَمِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں سلام کا جواب دینا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُرَاهُ رَفَعَهُ، قَالَ: " لَا غِرَارَ فِي تَسْلِيمٍ وَلَا صَلَاةٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ عَلَى لَفْظِ ابْنِ مَهْدِيٍّ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ سلام میں نقص ہے اور نہ نماز میں“۔ معاویہ بن ہشام کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ سفیان نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ابن فضیل نے ابن مہدی کی طرح «لا غرار في تسليم ولا صلاة» کے لفظ کے ساتھ روایت کی ہے اور اس کو مرفوع نہیں کہا ہے (بلکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول بتایا ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 929]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (928) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 46
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13401)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/461) (صحیح)