سنن أبي داود حدیث نمبر: 922
Sunan Abi Dawud 922
کتاب #--: ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
171: باب الْعَمَلِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کون سا کام جائز اور درست ہے؟
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا بُرْدٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَحْمَدُ: يُصَلِّي وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ، قَالَ أَحْمَدُ: فَمَشَى، فَفَتَحَ لِي، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ". وَذَكَرَ أَنَّ الْبَابَ كَانَ فِي الْقِبْلَةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ بند تھا تو میں آئی اور دروازہ کھلوانا چاہا تو آپ نے (حالت نماز میں) چل کر میرے لیے دروازہ کھولا اور مصلی (نماز کی جگہ) پر واپس لوٹ گئے ۱؎۔ اور عروہ نے ذکر کیا کہ آپ کے گھر کا دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 922]
💡 وضاحت:
۱؎: ان حدیثوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے واسطے چلنا یا دروازہ کھولنا یا لاٹھی اٹھا کر سانپ بچھو مارنا، یا بچے کو گود میں اٹھا لینا پھر بٹھا دینا، ان سب اعمال سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (601) نسائي (1207) ¤ الزھري عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 46
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصلاة 304 (الجمعة 68)، (601) سنن النسائی/السھو 14 (1207)، (تحفة الأشراف: 16417)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/31، 183، 234) (حسن)