سنن أبي داود حدیث نمبر: 870
Sunan Abi Dawud 870
کتاب #--: ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى أَوْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، بِمَعْنَاهُ زَادَ، قَالَ: " فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ، قَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ، ثَلَاثًا وَإِذَا سَجَدَ، قَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى وَبِحَمْدِهِ، ثَلَاثًا". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ نَخَافُ أَنْ لَا تَكُونَ مَحْفُوظَةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: انْفَرَدَ أَهْلُ مِصْرَ بِإِسْنَادِ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ: حَدِيثِ الرَّبِيعِ وَحَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
اس طریق سے بھی عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں راوی نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو تین بار «سبحان ربي العظيم وبحمده» کہتے، اور جب سجدہ کرتے تو تین بار «سبحان ربي الأعلى وبحمده» کہتے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ «وبحمده» کا یہ اضافہ محفوظ نہ ہو ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ربیع اور احمد بن یونس کی ان دونوں حدیثوں کی اسناد کے سلسلے میں اہل مصر منفرد ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 870]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں تسبیح تین بار پڑہنے کی بات ہے، مسند احمد، ابن ماجہ، دارقطنی، طحاوی، بزار، ابن خزیمہ، (۶۰۴)، طبرانی (کبیر) میں سات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تین تسبیح وارد ہے (ملاحظہ ہو: صفة صلاة النبي للألباني: 132) وضاحت: مسند احمد، طبرانی، دارقطنی، بیہقی میں «سبحان ربي العظيم وبحمده» تین بار وارد ہے (ملاحظہ ہو: صفة صلاة النبي للألباني: 133)
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ انظر الحديث السابق (869) رجل من قومه: ’’ھو عم موسيٰ بن أيوب‘‘
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9909) (ضعیف) (اس کی سند میں رجل من قومه مبہم راوی ایاس ابن عامر ہیں، جو مجہول ہیں، صحیح بخاری میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں سبحانك اللهم ربنا وبحمدك پڑھا کرتے تھے)