سنن أبي داود حدیث نمبر: 787
Sunan Abi Dawud 787
کتاب #--: ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
127: باب مَنْ جَهَرَ بِهَا
باب: «بسم الله الرحمن الرحيم» زور سے پڑھنے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ فِيهِ: فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ الشَّعْبِيُّ، وَأَبُو مَالِكٍ، وَقَتَادَةُ، وَثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حَتَّى نَزَلَتْ سُورَةُ النَّمْلِ هَذَا مَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی روایت آئی ہے، اس میں ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا، اور آپ نے ہم سے بیان نہیں کیا کہ سورۃ برات انفال میں سے ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعبی، ابو مالک، قتادہ اور ثابت بن عمارہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں لکھا یہاں تک کہ سورۃ النمل نازل ہوئی، یہی اس کا مفہوم ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 787]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ انظر الحديث السابق (786)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9819) (ضعیف)