سنن أبي داود حدیث نمبر: 773
Sunan Abi Dawud 773
کتاب #--: ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
123: باب مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلاَةُ مِنَ الدُّعَاءِ
باب: نماز کے شروع میں کون سی دعا پڑھی جائے؟
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نحوه، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَمِّ أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسَ رِفَاعَةُ لَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ رِفَاعَةُ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ، فَقَالَ: مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ؟" ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَأَتَمَّ مِنْهُ.
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، مجھ کو (رفاعہ) کو چھینک آئی۔ اور قتیبہ نے اپنی روایت میں «رفاعة» کا لفظ ذکر نہیں کیا - تو میں نے یہ دعا پڑھی: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» ”اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں، ایسی تعریف جو پاکیزہ، بابرکت اور پائیدار ہو، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے“، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو مڑے اور پوچھا: ”نماز میں کون بول رہا تھا؟“، پھر راوی نے مالک کی حدیث کے ہم مثل اور اس سے زیادہ کامل روایت ذکر کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 773]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (992) ¤ أخرجه الترمذي (404 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصلاة 180 (404)، سنن النسائی/الافتتاح 36 (932)، (تحفة الأشراف: 980، 3606) (حسن)