سنن أبي داود حدیث نمبر: 703
Sunan Abi Dawud 703
کتاب #--: ابواب: ان چیزوں کی تفصیل، جن سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور جن سے نہیں ٹوٹتی
112: باب مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ
باب: کن چیزوں کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ شُعْبَةُ قَالَ: " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْكَلْبُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَفَهُ سَعِيدٌ، وَهِشَامٌ، وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں (شعبہ نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے): ”نماز حائضہ عورت اور کتا (مصلی کے سامنے گزرنے) سے نماز ٹوٹ جاتی ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید، ہشام اور ہمام نے قتادہ سے، قتادہ نے جابر بن زید سے، جابر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً یعنی ان کا اپنا قول نقل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 703]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ صححه ابن خزيمة (832)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/القبلہ 7 (752)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 38 (949)، مسند احمد (1/437)، (تحفة الأشراف: 5379) (صحیح)