سنن أبي داود حدیث نمبر: 66
Sunan Abi Dawud 66
کتاب #1: کتاب: طہارت کے مسائل
34: باب مَا جَاءَ فِي بِئْرِ بُضَاعَةَ
باب: بضاعہ نامی کنویں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ، وَهِيَ بِئْرٌ يُطْرَحُ فِيهَا الْحِيَضُ وَلَحْمُ الْكِلَابِ وَالنَّتْنُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعٍ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: کیا ہم بئر بضاعہ کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں، جب کہ وہ ایسا کنواں ہے کہ اس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں ڈالی جاتی ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہے، اس کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے عبداللہ بن رافع کی جگہ عبدالرحمٰن بن رافع کہا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 66]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (478)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطھارة 49 (66)، سنن النسائی/المیاہ 1 (327، 328)، (تحفة الأشراف: 4144)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/15، 16، 31، 86) (صحیح)