سنن أبي داود حدیث نمبر: 625
Sunan Abi Dawud 625
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
79: باب جِمَاعِ أَثْوَابِ مَا يُصَلَّى فِيهِ
باب: کتنے کپڑوں میں نماز پڑھنی درست ہے؟
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ؟".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 625]
💡 وضاحت:
یعنی جب فی الواقع ہر انسان کو دو کپڑے مہیا نہیں تو شریعت میں بھی تنگی نہیں۔ ایک کپڑے میں بھی نماز جائز ہے۔ اس کے باندھنے کا طریقہ اگلی حدیث میں دیکھئیے (سنن ابوداود، حدیث ۶۲۶)
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (358) صحيح مسلم (515)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 4 (358)، صحیح مسلم/الصلاة 52 (515)، سنن النسائی/القبلہ 14 (764)، (تحفة الأشراف: 13231)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 69 (1047)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 9 (30)، مسند احمد (2/230، 239، 285، 345، 495، 498، 499، 501)، سنن الدارمی/الصلاة 99 (1410) (صحیح)