سنن أبي داود حدیث نمبر: 615
Sunan Abi Dawud 615
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
72: باب الإِمَامِ يَنْحَرِفُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیرنے کے بعد امام کے (مقتدیوں کی طرف) مڑنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: " كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ، فَيُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہماری یہ خواہش ہوتی کہ ہم آپ کی داہنی طرف رہیں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سلام پھیرنے کے بعد) اپنا رخ ہماری طرف کر لیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 615]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر داہنی طرف مڑتے تھے، اس لئے لوگ آپ کے دائیں رہنا پسند کرتے تھے، بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں طرف بھی مڑتے تھے۔ سلام کے بعد امام کا حالت تشہد سے پھر کر مقتدیوں کی طرف رخ کر کے بیٹھنا مسنون ہے۔ اور اس طرح بیٹھے کہ دائیں جانب والوں کی طرف رخ قدرے زیادہ ہو اور بائیں طرف والے بھی اچھی طرح اس کی نظر میں ہوں۔ اس طرح بیٹھنا کہ بائیں جانب والوں کی طرف پشت ہو جائے صحیح نہیں ہے۔ اور مذکورہ عمل دائمی نہیں ہونا چاہیے بلکہ کبھی کبھی رخ بائیں جانب بھی ہونا چاہیے۔ (تفصیل آئندہ کی احادیث میں ان شاء اللہ آئے گی)
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (709)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 8 (709)، سنن النسائی/الإمامة 34 (823)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 55 (1006)، (تحفة الأشراف: 1789)، وقد أخرجہ: (4/290، 304) (صحیح)