سنن أبي داود حدیث نمبر: 612
Sunan Abi Dawud 612
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
71: باب إِذَا كَانُوا ثَلاَثَةً كَيْفَ يَقُومُونَ
باب: جب تین آدمی نماز پڑھ رہے ہوں تو کس طرح کھڑے ہوں؟
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، " أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قُومُوا فَلَأُصَلِّيَ لَكُمْ، قَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ، فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا، جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا، تو آپ نے اس میں سے کھایا پھر فرمایا: ”تم لوگ کھڑے ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں“۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا، جو عرصے سے پڑے پڑے کالی ہو گئی تھی تو اس پر میں نے پانی چھڑکا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میں نے اور ایک یتیم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھی اور بوڑھی عورت (ملیکہ) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں تو آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس ہوئے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 612]
💡 وضاحت:
تین مرد ہوں تو امام آگے اور باقی دو اس کے پیچھے صف بنائیں اور عورت کی علیحدہ صف ہو گی خواہ اکیلی ہی ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (380) صحيح مسلم (658)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 20 (380)، والأذان 78 (727)، 161 (860)، 164 (871)، 167 (874)، صحیح مسلم/المساجد 48 (658)، سنن الترمذی/الصلاة 59 (234)، سنن النسائی/المساجد 43 (738)، والإمامة 19 (802)، 62 (870)، (تحفة الأشراف: 197)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 9(31)، مسند احمد (3/131، 145، 149، 164)، سنن الدارمی/الصلاة 61 (1324)، (صحیح)