📖 سنن أبي داود • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن أبي داود

Sunan Abi Dawud (سُنَنُ أَبِي دَاوُدَ)
📁 کتاب: نماز کے احکام و مسائل (كِتَاب الصَّلَاةِ) 🏷️ باب: باب: مسجد میں دو مرتبہ جماعت کرنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن أبي داود حدیث نمبر: 574 Sunan Abi Dawud 574
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
56: باب فِي الْجَمْعِ فِي الْمَسْجِدِ مَرَّتَيْنِ
باب: مسجد میں دو مرتبہ جماعت کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي وَحْدَهُ، فَقَالَ: " أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: کیا کوئی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے، یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 574]
💡 وضاحت:
جامع ترمذی میں درج ذیل حدیث کا عنوان ہے: جس مسجد میں ایک بار (باجماعت) نماز ہو چکی ہو اس میں جماعت کا بیان۔ درج ذیل صحیح حدیث سے دوسری جماعت کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے (ابن ابی شیبہ)۔ اکیلے نماز پڑھنے والے کو اپنا امام بنا لینا جائز ہے۔ اگرچہ دوسرے نے اپنی نماز پڑھ لی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (1146) ¤ صححه ابن خزيمة (1632 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 50 (220)، (تحفة الأشراف: 4256)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/64، 85)، سنن الدارمی/الصلاة 98 (1408) (صحیح)
سنن أبي داود • حدیث #574
572 573 574 575 576
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ