سنن أبي داود حدیث نمبر: 5190
Sunan Abi Dawud 5190
کتاب #--: ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
141: باب فِي الرَّجُلِ يُدْعَى أَيَكُونُ ذَلِكَ إِذْنَهُ
باب: آدمی کو بلایا جائے تو کیا بلایا جانا اس کے لیے گھر میں داخل ہونے کی اجازت ہے؟
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ فَجَاءَ مَعَ الرَّسُولِ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَهُ إِذْنٌ" , قال أَبُو عَلِيٍّ الْلُّؤْلُئِيُّ: سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ: قَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي رَافِعٍ شَيْئًا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی کھانے کے لیے بلایا جائے اور وہ بلانے والا آنے والے کے ساتھ ہی آ جائے تو یہ اس کے لیے اجازت ہے“ (پھر اسے اجازت لینے کی ضرورت نہیں)۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا: کہ قتادہ نے ابورافع سے کچھ نہیں سنا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5190]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قتادة مدلس وعنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14673)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/533) (صحیح لغیرہ)