سنن أبي داود حدیث نمبر: 5186
Sunan Abi Dawud 5186
کتاب #--: ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
139: باب كَمْ مَرَّةٍ يُسَلِّمُ الرَّجُلُ فِي الاِسْتِئْذَانِ
باب: گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ , فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى بَابَ قَوْمٍ لَمْ يَسْتَقْبِلِ الْبَابَ مِنْ تِلْقَاءِ وَجْهِهِ، وَلَكِنْ مِنْ رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ وَيَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَذَلِكَ أَنَّ الدُّورَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ سُتُورٌ".
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے دروازے پر آتے تو دروازہ کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے بلکہ دروازے کے چوکھٹ کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، اور کہتے: ”السلام علیکم، السلام علیکم“ یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھروں میں دروازوں پر پردے نہیں تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5186]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4673) ¤ أخرجه أحمد (4/189) والبخاري في الأدب المفرد (1078) بقية بن الوليد صرح بالسماع المسلسل وتابعه إسماعيل بن عياش ومحمد بن عبد الرحمن ھو الحميري الحمصي
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5201)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/189) (صحیح)