سنن أبي داود حدیث نمبر: 5172
Sunan Abi Dawud 5172
کتاب #--: ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
137: باب فِي الاِسْتِئْذَانِ
باب: گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنِ اطَّلَعَ فِي دَارِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ، فَقَدْ هَدَرَتْ عَيْنُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کسی قوم کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے اور وہ لوگ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کی آنکھ رائیگاں گئی ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5172]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اسے کوئی تاوان یا بدل نہیں دینا پڑے گا۔ بعضوں نے کہا ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب اس نے اسے روکا ہو اور وہ نہ رکا ہو اور بعض علماء نے کہاہے کہ تاوان دینا پڑے گا کیونکہ کسی کے گھر میں جھانکنا اس میں بلا اجازت داخل ہونے سے بڑا گناہ نہیں اور بلا اجازت داخل ہونے سے جب آنکھ نہیں پھوڑی جا سکتی تو صرف جھانکنے سے بدرجہ اولیٰ نہیں پھوڑی جا سکتی ان لوگوں نے حدیث کو «مبالغة في الزجر» پر محمول کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2158)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الآداب 9 (2563)، سنن النسائی/القسامة 41 (4864)، (تحفة الأشراف: 12628)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/266، 414، 527) (صحیح)