سنن أبي داود حدیث نمبر: 5141
Sunan Abi Dawud 5141
کتاب #--: ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
130: باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ
باب: ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وحَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ: أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: يَلْعَنُ أَبَا الرَّجُلِ، فَيَلْعَنُ أَبَاهُ، وَيَلْعَنُ أُمَّهُ، فَيَلْعَنُ أُمَّهُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(بڑے گناہوں) میں سے ایک بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت بھیجے“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آدمی اپنے والدین پر کیسے لعنت بھیج سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک شخص کسی شخص کے باپ پر لعنت بھیجتا ہے، تو وہ شخص (جواب میں) اس کے باپ پر لعنت بھیجتا ہے، یا ایک شخص کسی شخص کی ماں پر لعنت بھیجتا ہے تو وہ اس کے جواب میں اس کی ماں پر لعنت بھیجتا ہے“ (اس طرح وہ گویا خود ہی اپنے ماں باپ پر لعنت بھیجتا ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5141]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5973) صحيح مسلم (90)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأدب 4 (5973)، صحیح مسلم/الإیمان 38 (90)، سنن الترمذی/البر والصلة 4 (1902)، (تحفة الأشراف: 8618)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/164، 195، 214، 216) (صحیح)