سنن أبي داود حدیث نمبر: 514
Sunan Abi Dawud 514
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
30: باب فِي الرَّجُلِ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ آخَرُ
باب: ایک شخص اذان دے اور دوسرا اقامت (تکبیر) کہے یہ جائز ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ يَعْنِي الْأَفْرِيقِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ، قَالَ: " لَمَّا كَانَ أَوَّلُ أَذَانِ الصُّبْحِ، أَمَرَنِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذَّنْتُ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أُقِيمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَشْرِقِ إِلَى الْفَجْرِ، فَيَقُولُ: لَا حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، نَزَلَ فَبَرَزَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ وَقَدْ تَلَاحَقَ أَصْحَابُهُ يَعْنِي فَتَوَضَّأَ، فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ هُوَ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ، قَالَ: فَأَقَمْتُ".
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب صبح کی پہلی اذان کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (اذان دینے کا) حکم دیا تو میں نے اذان کہی، پھر میں کہنے لگا: اللہ کے رسول! اقامت کہوں؟ تو آپ مشرق کی طرف فجر کی روشنی دیکھنے لگے اور فرما رہے تھے: ”ابھی نہیں (جب تک طلوع فجر نہ ہو جائے)“، یہاں تک کہ جب فجر طلوع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور وضو کیا، پھر میری طرف واپس پلٹے اور صحابہ کرام اکھٹا ہو گئے، تو بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”صدائی نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی تکبیر کہے“۔ زیاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے تکبیر کہی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 514]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (199) ابن ماجه (717) ¤ الإ فريقي ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصلاة 32 (199)، سنن ابن ماجہ/الأذان 3 (717)، (تحفة الأشراف: 3653)، مسند احمد (4/169) (ضعیف) (اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں)