سنن أبي داود حدیث نمبر: 5111
Sunan Abi Dawud 5111
کتاب #--: ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
119: باب فِي رَدِّ الْوَسْوَسَةِ
باب: وسوسہ دور کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا الشَّيْءَ نُعْظِمُ أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهِ أَوِ الْكَلَامَ بِهِ، مَا نُحِبُّ أَنَّ لَنَا وَأَنَّا تَكَلَّمْنَا بِهِ، قَالَ: أَوَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ؟ قَالُوا: نَعَمْ , قال: ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آئے، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنے دلوں میں ایسے وسوسے پاتے ہیں، جن کو بیان کرنا ہم پر بہت گراں ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے اندر ایسے وسوسے پیدا ہوں اور ہم ان کو بیان کریں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں ایسے وسوسے ہوتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”یہ تو عین ایمان ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5111]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی عین ایمان یہی ہے جو تمہیں ان باتوں کو قبول کرنے اور ان کی تصدیق کرنے سے روک رہا ہے جنہیں شیطان تمہارے دلوں میں ڈالتا ہے یہاں تک کہ وہ وسوسہ ہو جاتا ہے اور تمہارے دلوں میں جم نہیں پاتا، یہ مطلب ہرگز نہیں کہ خود یہ وسوسہ ہی عین ایمان ہے۔ وسوسہ تو شیطان کی وجہ سے وجود میں آتا ہے پھر یہ ایمان صریح کیسے ہو سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (132)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12657)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان 60 (132)، مسند احمد (2/441) (صحیح)